Nauha Alwida Alwida Aye Ghareeb Alwida
(نوحہ) الوداع الوداع اے غریب الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع آج سے سب عزاخانے سُنسان ہیں رونقیں سب گھروں کی بھی ویران ہیں رخصتِ سوگ سے دل پریشان ہیں غم زدہ ہے فضا جسم بے جان ہیں الوداع الوداع اے غریب الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع دیکھتی تھیں عزا روز و شب سیّدہ میرے گھر میں بھی آتی تھیں تب سیّدہ کر گئیں اونچا نام و نسب سیّدہ ہر حسینی کے لب پر ہے اب سیّدہ الوداع الوداع اے غریب الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع زندگی گر رہی پھر کریں گے یہ غم اور اگر نا رہیں تو یہ ہوگا الم ہائے مر ہی گئے کیوں نہ اِس غم میں ہم پھٹ رہا ہے جگر آنکھ سب کی ہے نم الوداع الوداع اے غریب الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع لے کے بازو پہ داغِ رسن الوداع جا رہی ہے بہن اب وطن الوداع تشنہ لب الوداع بے کفن الوداع ہائے کیسے کہے یہ بہن الوداع الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع سال کے بعد آئے گا ماہِ عزا آرزو ہے یہی اے شہہِ کربلا ہو یہ ماتم یونہی آپ کا جابجا پھر اُٹھائیں گے ہم آپ کا تعزیہ الوداع الوداع اے غریب الوداع الوداع الوداع اے غریب الوداع ہوگئی آپ پر ظلم کی انتہا کتنا ...