Nauha Hazrat Qasim (as)
(نوحہ حضرت قاسم علیہ السلام) مقتل سے کسی گٹھری میں لائے شہ والا قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ بھائی کی نشانی ہوئی رن میں تہہ و بالا قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ فرویٰ نے کِیا درد سے سر پیٹ کے گِریہ _ ہائے مِرا بچّہ تھا راج دلارا یہ مِرا نازوں کا پالا قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ اک رات کی دلہن جونہی دیتی ہے دُہائی _ روتی ہے خدائی مارا گیا کس ظلم سے اک رات کا دولہا قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ قاسم گِرے گھوڑے سے تو شہ کو یہ صدا دی _ ادرکنی چچا جی پامال بدن کو شہ والا نے سنبھالا قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ ہر لاش کو میداں سے اٹھا لائے ہیں شبّیر _ پر ہائے یہ تقدیر وہ حال ہوا ہے کہ اٹھایا نہیں جاتا قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ ماں کہتی ہے قاسم کو میں کیا دولہا بناتی _ پھٹتی ہے یہ چھاتی شبّیر کے اکبر پہ کِیا میں نے یہ صدقہ قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ ایسے بھی کوئی مرتا ہے تیرا ہی برس میں _ مرجاؤں گی بس میں غش آگیا چلّاکے پکاری جو یہ کبریٰ قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ ہر جا پہ نظر آتا تھا بس خون کا منظر _ روتی رہی مادر ماں رہ گئی ہئے ڈھونڈتی وہ چاند سا چہرہ قاسم ک...