Nauha Hazrat Qasim (as)
(نوحہ حضرت قاسم علیہ السلام)
مقتل سے کسی گٹھری میں لائے شہ والا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
بھائی کی نشانی ہوئی رن میں تہہ و بالا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
فرویٰ نے کِیا درد سے سر پیٹ کے گِریہ _ ہائے مِرا بچّہ
تھا راج دلارا یہ مِرا نازوں کا پالا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
اک رات کی دلہن جونہی دیتی ہے دُہائی _ روتی ہے خدائی
مارا گیا کس ظلم سے اک رات کا دولہا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
قاسم گِرے گھوڑے سے تو شہ کو یہ صدا دی _ ادرکنی چچا جی
پامال بدن کو شہ والا نے سنبھالا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
ہر لاش کو میداں سے اٹھا لائے ہیں شبّیر _ پر ہائے یہ تقدیر
وہ حال ہوا ہے کہ اٹھایا نہیں جاتا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
ماں کہتی ہے قاسم کو میں کیا دولہا بناتی _ پھٹتی ہے یہ چھاتی
شبّیر کے اکبر پہ کِیا میں نے یہ صدقہ
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
ایسے بھی کوئی مرتا ہے تیرا ہی برس میں _ مرجاؤں گی بس میں
غش آگیا چلّاکے پکاری جو یہ کبریٰ
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
ہر جا پہ نظر آتا تھا بس خون کا منظر _ روتی رہی مادر
ماں رہ گئی ہئے ڈھونڈتی وہ چاند سا چہرہ
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
پامال بدن قبر میں کیسے تھا اتارا _ دل ہل گیا سارا
روتے رہے سجّاد کسی نے جو یہ پوچھا
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
بھُولے گا نہ اِس درد کے الفاظ کو عالَم _ برپا ہے وہ ماتم
مجلس میں عجب آیا ہے عشرت کا یہ نوحہ
قاسم کا جنازہ قاسم کا جنازہ
Poet: Janab Ishrat Hassan Bilgerami
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Zeya Abbas Haideri ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Youtube Search On Zeya Jalalpuri
India
Comments
Post a Comment