Nauha Bibi Zainab (sa) || Jaun Kaise Main Watan Aye Mere Beta Sajjad (as) ||
نوحہ سر زندان یہ زینب نے کہا رو رو کر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد غم ہے بھائی کا مرے داغ بہتر دل پر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد 1 ہم پہ جو ظلم ہوئے کیسے بتا پائیں گے جاکے اب اپنے وطن منھ نہ دکھا پائیں گے واحسینا کی صدا ہوگی ہر اک کے لب پر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد 2 بھائ کی گود میں اصغر سر مقتل آیا بانئ شر نے ذرا اس پہ ترس نہ کھایا تیر سہ شعبہ سے مارا گیا ہائے اصغر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد 3 نوجواں لال کے سینے پہ لگا تھا نیزہ یاعلی کہہ کے مرے بھائی نے اس کو کھینچا ہائے غربت میں جدا ہوگیا میرا اکبر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد 4 عصر عاشور ستمگاروں نے وہ ظلم کئے بالیاں کھینچی ردا لوٹی طمانچے مارے میری آنکھوں میں ہےوہ ظلم کا اب تک منظر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد 5 ہتھکڑی بیڑی میں باندھا گیا بیٹا تم کو شہر در شہر پھرایا گیا بیٹا ہم کو حشر تک بھول نہ پائونگی یہ ہرگز منظر جائوں کیسے میں وطن اے مرے بیٹا سجاد 6 قید خانے کی اذیت کا بیاں ہو کیونکر خوف سے ر...