Gham Zada Bachchi Thi Haye Sham Kay Zindan Main
نوحہ
غمزدہ بچّی تھی ہائے شام کے زندان میں
کتنا اس پر ظلم وائے شام کے زندان میں
پَھٹ رہا ہے تشنگی سے چار سالہ کا گلا
کوئی تو پانی پلائے شام کے زندان میں
خون جاری ہے ابھی بچی کے نازک کان سے
رو رہی ہے بچی ہائے شام کے زندان میں
کتنی آفت ہم پہ ٹوٹی میں بیاں کس سے کروں
کوئی بابا کو بلائے شام کے زندان میں
بے بسی چھائی تھی اتنی زینبِ مظلوم پر
کیسے اک شمع جلائے شام کے زندان میں
ہو رہی ہے شام کوئی بھی نہیں آیا یہاں
اب مدد کو کون آئے شام کے زندان میں
ہائے اس ننّھی سکینہ پر مصیبت کی گھڑی
خون کے آنسو بہائے شام کے زندان میں
دیکھ کر پیاسی سکینہ کو پُھپھی نے یہ کہا
اب سکینہ مر نہ جائے شام کے زندان میں
از قلم🖋 محمد یاسر مصطفوی
............(Zeya Abbas (Haideri............
YouTube Search On Zeya Jalalpuri
India
Comments
Post a Comment