Manqabat Maula Sajjad (as)
مصرع :۔
آج تک صبر بھی کرتا ہے ثنائے سجاد
(میر نظیر باقری)
آپ کی محفلِ مدحت جو سجائے سجاد
اس کے حصے میں غمِ دہر نہ آئے سجاد
چھوڑ کر آپ کو جو شخص بھی جائے سجاد
پھر وہ دنیا میں کہیں چین نہ پائے سجاد
جشن برپا ہے یہاں آج برائے سجاد
اہلِ نگپور کے اوپر ہے عطائے سجاد
جو اٹھاتا ہے سدا آپ کے عمّو کا علم
اس کو دنیا میں بھلا کون جھکائے سجاد
جا بہ جا سجدہء معبودِ حقیقی کرکے
قید خانے کو خدا خانہ بنائے سجاد
شُکر و ایثار و وفا جُود و سخاوت کی طرح
آج تک صبر بھی کرتا ہے ثنائے سجاد
عصر تک کرتے رہے کارِ رسالت شبیر
عصر کے بعد کی منزل کو نبھائے سجاد
قصرِ فرعون میں جیسے کوئ موسیٰ آئے
اس طرح شام کے دربار میں آئے سجاد
تجھ سے سجدوں کا تحفظ نہ ہوا جب مفتی
کیسے ممکن ہے ترے ذہن میں آئے سجاد
اُسکو ہر رنج و مصیبت سے بچائے رکھنا
آپ کی شان میں جو بیت سنائے سجاد
سامنے پوری حکومت تھی مگر جیت گئے
ساتھ سجاد کے بس اک تھا خدائے سجاد
کر رہے ہیں یہ دعا مِل کے مشیر و ریحاں
ہو میسر اُنھیں نقشِ کفِ پائے سجاد
مشیر جلالپوری
Comments
Post a Comment