Manqabat Hazrat Abu Talib
(منقبت)
مٹ جائے بھلا کیسے ضیائے ابوطالبقرآں کے لبوں پر ہے ثنائے ابوطالب
پھر دعوتِ اسلام سے اُٹھ پائے بھلا کون
جب رعبِ شجاعت سے بٹھائے ابوطالب
ہر گام محمّد کے سدا سینہ سپر تھا
کیا بھولے کوئی آج وفائے ابوطالب
پڑھتے ہیں نبی سارے ہی سرکار کا کلمہ
وہ جس کا نکاح خود ہی پڑھائے ابوطالب
پھر کیسے زمانہ اُسے کہہ سکتا ہے کافر
اسلام ہے گودی میں اٹھائے ابوطالب
آتی ہے فرشتوں کی صدا عرشِ بریں سے
" مرضیٔ محمّد ہے ثنائے ابوطالب"
اٹھتا ہے سلامی کے لیے نبیوں کا سردار
گھر میں جو قدم آپ کے آئے ابوطالب
ہو سکتی نہیں کوئی کمی رزق میں اُس کے
بن جائے جو دنیا میں گدائے ابوطالب
چوکھٹ کو ملک چومنے آئیں گے فلک سے
جو جشن ترا گھر میں منائے ابوطالب
ولیوں کا ولی بیٹا بہو فاطمہ زہرا
یہ شان تری کون گھٹائے ابوطالب
شبّیر کے تابوت کو چھوڑے گا نہ تنہا
عبّاس کا پرچم ہے وفائے ابوطالب
تاریخ کبھی بھول نہ پائی ترے غم میں
آنسو جو محمّد نے بہائے ابوطالب
مجلس جو ہوئی برپا تو گھر بار کو رونے
فرشِ غمِ شبّیر پہ آئے ابوطالب
اشعار کے صدقے میں مکاں کوئی شہانہ
عشرت کو بھی جنّت میں دلائے ابوطالب
شاعرِ اہلبیت جناب عشرت حسن رضوی بلگرامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Zeya Abbas Haideri ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
YouTube Search On Zeya Jalalpuri
India
Comments
Post a Comment