Salam Habib Ibn e Mazahir Mere Habib Kahan Ho Hussain (as) Tanha Hai
(نوحہ)
مِرے حبیب کہاں ہو حسین تنہا ہےچلے بھی آؤ جہاں ہو حسین تنہا ہے
ہیں ساتھ میرے نبی زادیاں بھی بچّے بھی
یہ حال کیسے بیاں ہو حسین تنہا ہے
پڑھا جو خط کا یہ جملہ تڑپ گئے تھے حبیب
کہیں تو امن و اماں ہو حسین تنہا ہے
حبیب کرب و بلا میں جب آئے خط پڑھ کر
کہا فدا مِری جاں ہو حسین تنہا ہے
حبیب آپ کو زینب سلام کہتی ہے
تم آج مہماں یہاں ہو حسین تنہا ہے
وہ میزباں ہوں کہ پانی بھی کیسے پیش کروں
جو منہ میں خشک زباں ہو حسین تنہا ہے
کہا حسین نے رخصت کِیا جو رن کے لیے
تمہارا عزم جواں ہو حسین تنہا ہے
حبیب جنگ کرو ایسی کاٹ دو لشکر
لعینوں کو نہ اماں ہو حسین تنہا ہے
حبیب جنگ کے میداں میں یوں گئے لڑنے
کہ جیسے شیر عیاں ہو حسین تنہا ہے
حبیب لڑتے رہے جنگ یوں ضعیفی میں
کہ جیسے کوئی جواں ہو حسین تنہا ہے
گرے حبیب جو گھوڑے سے ہائے مقتل میں
حسین بولے دھیاں ہو حسین تنہا ہے
گیا ہے جو سرِ میداں وہ آج لوٹا نہیں
تمیں بھی رب کی اماں ہو حسین تنہا ہے
کہا حسین نے اک یار بھی نہ ہو؟ افسوس!
چُھری جو مجھ پہ رواں ہو حسین تنہا ہے
حسین کہتے تھے عشرت حبیب سے روکر
کہ دوستی کا نشاں ہو حسین تنہا ہے
شاعرِ اہلبیت جناب عشرت حسن رضوی بلگرامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Zeya Abbas Haideri ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
YouTube Search On Zeya Jalalpuri
India
Comments
Post a Comment